चाँदनी महल (परियों का आस्‍ताना, डेरा) बेमिसाल ईदगाह देवी मन्दिर कैराना कैराना का नवाब तालाब कैराना के इतिहास पर ऐतिहासिक भाषण


سراج الاولیا حاجی عبد اللہ عرف حاجی بھاٹی رحمة اللہ علیہ


سراج الاولیا حاجی عبد اللہ عرف حاجی بھاٹی رحمة اللہ علیہ (گوجر) صاحبِ تقویٰ، ولی صفت حاجی بھاٹی رحمة اللہ علیہ سے مولانا اشرف علی صاحب کیرانہ ملنے آیا کرتے تھے۔ایک واقعہ جو کیرانہ میں بہت مشہور ہے، چودھری ارشاد صاحب،شہرصدر، سماج وادی پارٹی جانکاری دیتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ایک مرتبہ صاحب(وفات1936) بھاٹی صاحب سے ملاقات کے لئے تشریف لائے، تب آپ شاملی روڈ پر واقع رجباہے(چھوٹی نہر) میں کپڑے دھورہے تھے،سلام کے بعد حاجی بھاٹی نے کہا حضرت آپ کھیت پر تشریف لے جائیں میںفوراً پہنچ رہاہوں۔ تھانوی صاحب نے کھیت پر ناراضگی کا اظہار کیاکہ میں اِتنی دور سے آیا اور آپ رجباہے سے باہر نہیں نکلے۔ آپ نے کہا کہ حضرت تب میں اپنی بیوی کے کپڑے دھورہاتھا،آپ کو دیکھ کر میں نے کپڑے پانی میں پیروں کے نیچے دبالئے تھے،اگرمیں باہر آتا تو وہ پانی میں بہہ جاتے اوراگر میں کپڑے ہاتھ میں لے کر باہر آتاتوغیر محرم کی نظر کپڑوں پر پڑتی۔اس روایت میں مزید اضافہ کرتے ہوئے اکبر انصاری صاحب ولد خلیفہ رامو کہتے ہیں کہ حاجی بھاٹی صاحب بیوی کے کپڑے ایکھ(گنّوں کے کھیت) میں سُکھاتے تھے کہ غلطی سے بھی غیر کی نظر نہ پڑے۔اُس وقت گھروں میں پانی دستیاب نہیں ہوتاتھااس لئے جومردپردے کا اہتمام رکھتے تھے وہ دُور سے پانی لاتے تھے یا نہر،تالاب یاکھیت پرجاکر خود ہی دھولیتے تھے۔ ارشاد صاحب کے بقول حاجی بھاٹی صاحب آپ کی نانی کے دادا تھے۔ تایا چوہدری ظہور حسن صاحب اکثر حاجی بھاٹی صاحب کے قصّے سناتے تھے جن کا دو سال پہلے2005ءمیں انتقال ہوگیاہے۔تایا سے سنی باتوں سے جانکاری دیتے ہوئے بتاتے ہیں کہ حاجی بھاٹی صاحب کبھی غصہ نہیں کرتے تھے،آپ کا معمول تھاکہ کھیت میں ہل چلاتے وقت چاروں کونوں پرپانی کی بدھنی(گھڑا)رکھتے تھے، جس سے آنے جانے والے پیاسوں کو پانی پلاسکیں اور ہل چلاتے وقت نماز کا وقت جس کونے پر ہوجائے اُسی کونے پرفوراً وضو کرسکیں۔ اکثر بھولے بھالے لوگ آزماتے کہ دیکھیں بھاٹی صاحب غصہ کرتے ہیں یانہیں،باربار پانی مانگنے پر بھی آپ بغیر غصّہ کئے خود ہی پانی پلاتے تھے، اس وجہ سے بھی خود پلاتے تھے کہ کہیںپیاساناپاک ہواور اُن کاوضوکاپانی خراب ہوجائے۔ ایک اور واقعہ ارشادصاحب سناتے ہیں جس سے بھاٹی صاحب کے تقویٰ یعنی خوفِ خدا کی انتہاکا اندازہ ہوتاہے کہ ایک مرتبہ آپ کی بھینس نے پڑوس کے کھیت کا ایک جوارکا پتّہ کھالیاتو شام کو اُس بھینس کا دودھ اُس پڑوس کے کھیت کے مالک کے گھر پہنچادیااورکہاکہ اِس دودھ پر آپ کاحق ہے۔ایسا ہی دوسرا واقعہ ہے کہ ہل چلاتے ہوئے اُن کے چھینکالگے بیل نے پڑوسی کے آم کے پیڑکی جھکی ہوئی ڈالی سے کسی طرح آم کھالیاتو بھاٹی صاحب فوراً پیڑکے مالک کے پاس پہنچے اوربات بتاکر جاننا چاہاکہ اُس آم کی کیا قیمت لیناچاہیں گے۔اُس آدمی نے مذاق میں کہا کہ اُس آم کی قیمت 100 روپئے لوں گا۔ تبھی گھر سے 100روپے لے آئے،جس پر وہ آم کے پیڑکامالک شرمندہ ہوا،او رکہاکہ حضرت میں تو مذاق کررہاتھا،یہ تو بہت معمولی سی بات ہے اِس کی کیاقیمت لوں۔تب بھاٹی صاحب نے کہا یاتو آم کی قیمت جو تم نے بتائی وہ لو یا معاف کردو۔معاف کراکر آپ کی تسلّی ہوئی۔اِس واقعہ میں مزیداضافہ کرتے ہوئے اکبرانصاری صاحب فرماتے ہیں کہ بھینسوں کوجو چھینکا لگایاجاتاہے وہ بھاٹی صاحب کی ہی دَین ہے۔ ظہور صاحب سے سنی ایک اور روایت ارشاد صاحب بتاتے ہیں کہ کوئی بزرگ کیرانہ میں آنے والے تھے،اُنہوں نے کہلوایاتھاکہ وہ اُس گھر میں کھانا کھائیں گے جس گھر میں حلال رزق کھایا جاتا ہو۔تب فکرمند حاجی بھاٹی صاحب کے پاس پہنچے اور مسئلہ بیان کیا،تب آپ نے کہا کہ خداکاشکر ہے کہ میرا رزق حلال ہے ، صرف ایک بارایساہواکہ مجھے فکر ہوئی کہ میرے رزق میں کچھ ملاوٹ ہوگئی ہے، یوں ہوا تھاکہ ایک بار میرے بیل نے دوچار قدم پڑوس کے کھیت میں رکھ دےے تھے جس وجہ سے اُس کے کھُرّوں(پیروں)پر کچھ مٹّی پڑوس کے کھیت کی لگ کر میرے کھیت میں آگئی تھی۔ تب میں نے اُس پڑوسی سے معاف کرالیاتھا۔ اُس کے علاوہ کبھی مجھے اپنے حلال رزق میں کوئی کمی نظر نہیں آئی۔اکبر انصاری صاحب اس روایت میں مزید بتاتے ہیں کہ حاجی بھاٹی صاحب نے بعد میں یہ معمول بنالیاتھاکہ اُن کی بھینس یابیل احتیاط کے باوجود جتنے قدم دوسرے کے کھیت میں رکھ دیتے،وہ اُتنے ہی پھاولے بھرکر اپنے کھیت کی مٹی اُس کے کھیت میںڈالتے تھے۔ حاجی بھاٹی رحمة اللہ علیہ کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ تعلیم یافتہ نہیں تھے مگرتھانوی صاحب جیسے علماءکی صحبت اورتقویٰ(خوفِ خدا) نے آپ کو ولی صفت بنادیاتھا، ایک مرتبہ کسی کیرانہ کے شخص نے حضرت تھانوی کے پاس پہنچ کر مسئلہ بیان کیاکہ حضرت میں نے اپنی بیوی سے کہہ دیاتھاکہ ’اگر وہ اپنے باپ کے گھر گئی تو،اُس کو طلاق‘۔ کچھ وقت پہلے اپنے والد کے انتقال ہونے پروہ اپنے والدکے گھر گئی تھی تو کیااُسے طلاق ہوگئی۔تب حضرت تھانوی نے کہا کہ اس مسئلہ کا حل حاجی بھاٹی صاحب سے کیرانہ جاکرمعلوم کرو۔وہ شخص بھاٹی صاحب کے پاس آیااوراپنا مسئلہ بیان کیا۔تب بھاٹی صاحب نے کہاکہ جب تمہاری بیوی اپنے گھرگئی تب وہ والد کے انتقال ہونے کی وجہ سے اُس کے بھائیوں کاگھرہوچکاتھا۔لہٰذا اُسے طلاق نہیںہوئی ہے۔ ایساہی ایک اورواقعہ بھی ارشاد صاحب اپنے تایاسے سُنابتاتے ہیں کہ کسی شخص نے اپنی بیوی کو غصّہ میں طلاق دیدی، پھربعد میں پشیمان ہوااور علماوں سے دریافت کیاکہ اب کیاکروں،تب سبھی نے مشورہ دیاکہ حاجی بھاٹی صاحب کے پاس جاو۔ بھاٹی صاحب نے بات سُن کر کہا کہ یہ بتاو کہ کیاتم نے اپنی شادی میں بینڈ باجا بجوایاتھا۔ اُس شخص نے کہاہاں حضرت میری شادی میں بینڈ باجابجاتھا۔یہ سُن کر حاجی بھاٹی صاحب بولے جب تم نے شادی میں شرع کے خلاف کام کیاتو تمہارا نکاح ہی نہیں ہوا، طلاق کی بات کہاں۔ شاعرشمشیرصاحب اپنے داداعبدالرحیم صاحب سے سنا حاجی بھاٹی کاایک قصّہ سناتے ہیں کہ ایک مرتبہ کھیت کے پرانے کاغذوں کو دیکھتے ہوئے حاجی بھاٹی صاحب کو معلوم ہواکہ کوئی زمین کا قطعہ جس پر وہ کاشت کرتے ہیں وہ کسی لالہ کاہے،اُسی وقت آپ وہ زمین کا کاغذ لالہ کو دینے پہنچ گئے،زمین بھی اُس کے سپردکردی جبکہ اُس وقت تک کئی پیڑھیاں گزر چکی تھیں۔ بقول ماسٹر شمع صاحب 2007ءکے حج میں مکّہ میں حاجی بھاٹی کے تقویٰ کے بارے میںبیان کیاگیا۔حاجی بھاٹی صاحب اپنے کھیت میں وہ اناج، دالیں بویاکرتے تھے جن کا بیج وہ مکّہ سے لائے تھے۔ مظفرحلوائی صاحب اور ڈاکٹر سلیم اختر فاروقی صاحب کہتے ہیں کہ اُن کی دکان پر اکثر بزرگ لوگ حاجی بھاٹی صاحب کے قصّے سناتے ہیں۔ والدصاحب حاجی شمس الاسلام مظاہری باغباں صاحب بتاتے ہیں کہ اُن کو حاجی فضل قریشی صاحب شبِ برات کے موقع پر فاتحہ پڑھنے کے لئے دادا غریب اللہ، مولوی فیض اللہ،حاجی بھاٹی رحمة اللہ علیہ اورحافظ بندو صاحب(پٹھانوں کے قبرستان میں مدفون) کی تربت(قبروں) پر لے جایا کرتے تھے۔ آل درمیان میں چودھری منور حسن صاحب کی کوٹھی کی پشت پرایک مینار کی مسجدہے جوحاجی بھاٹی والی مسجد کہلاتی ہے، مسجد کے برابروالی گلی کے آخر میں آپ کا پیدائشی مکان تھا۔ بعد میں آپ کا خاندان اکرام پورہ میں بس گیا۔ علاقے کی طاقتوَربرادری کلسیان (ہندوگوجراور مسلمان گوجر،جس کی پرانی تاریخ ہے) سے چلاگوجر خاندان شاہ جی جھنجھانہ والوں کے ہاتھ پر مسلمان ہوا۔اسی گوجر برادری میں آگے چل کر تقویٰ کی یہ بے مثال شخصیت ہوئی تھی۔ حاجی بھاٹی رحمة اللہ علیہ اپنے خاندانی قبرستان کی کچی قبر میں دفن ہیں، جوجھنجھانہ کیرانہ بائی پاس روڈ، آریاپوری میں کمھاروں کے بھٹّے کے پاس ہے۔ کتبہ پر لکھاہے ”راسُ الاتقیاءسراج الاولیاءحضرت حاجی عبداللہ رحمة اللہ عرف حاجی بھاٹی کیرانوی“۔
بھاٹی والی مسجد،بھاٹی صاحب کی قبراورقبرستان کی تصویر کے ساتھ کلسیان اور کیرانہ کی تاریخی جانکاری کے لئے دیکھیں
http://www.kairana.net/ یا پڑھیں ہندی اور اُردو میں کتاب ”کیرانہ کل اور آج“۔


0 comments:

Post a Comment

My Facebook