चाँदनी महल (परियों का आस्‍ताना, डेरा) बेमिसाल ईदगाह देवी मन्दिर कैराना कैराना का नवाब तालाब कैराना के इतिहास पर ऐतिहासिक भाषण


کیرانہ کل اور آج

تحریر:مام چند چوہان ۔ہندی روزنامہ جاگرن ۱۰ستمبر ۱۹۹۷۔۔ پیشکش عمر کیرانوی

کیرانہ کل اور آج۔۔ ہندو نظریہ سے

مظفرنگر سے قریب ۵۰کلومیٹر مغرب میں ہریانہ کی سرحد سے ملا جمناندی کے پاس قریب ۹۰ہزار کی آبادی والایہ قصبہ کیرانہ قدیم دور میں کَرن پوری کے نام سے مشہور تھاجو بعد میں بگڑکر کِرانہ نام سے جاناگیا بعدمیں پھر کِرانہ سے کیرانہ ہو گیا۔ کیرانہ سے دکن میں ہی بسے تیترواڑہ گاوں میںایک پٹھان رہتاتھا جس کے ظلم سے لوگ کافی تنگ آچکے تھے۔ بتاتے ہیں کہ اس علاقے میں اُس دَور میں ہونے والی شادی کے بعد دُولھے کے ذریعے یہاں سے گزرنے والی دُلھن کی ڈولی تیترخاں ایک رات اپنے پاس رکھتا تھا۔ اسی دستور کے مطابق اُس وقت جب تیتر خاں نے یہاں سے گزرنے والی ایک بارات کو روک کر نئی دولھن کو جبرن دولھا سے لے لیاتو دولھا کے ساتھ والے شہر پنجیٹھ میں رہنے والے اُس وقت کی طاقتور شخصیت رانا حُرّاجو کچھ برسوں پہلے گرام جونڈلا(ہریانہ) سے آکر یہاں بسا تھاکے پاس پہنچے اور تیتر خا ںکے ظلم کی کہانی اُن کو سنائی۔ آج جہاں تیترواڑہ بساہے وہ پنجیٹھ سے صرف۳کلومیٹر کی دوری پر ہے اور کیرانہ سے ۵کلومیٹر دکن میں ہے۔ بتاتے ہیں کہ راناحُرا نے فریاد سن کر تیتر خاں سے جنگ کی کرنے کی ٹھان لی اور وہ تیترخا ںکے پاس تیتر واڑہ پہنچااور دولھن کو آزاد کرنے کی درخواست کی،جس پر تیترخاں نے نئی دولھن کو واپس کرنے سے منع کردیااِس پر رانا حُرّا نے اپنے ۰۲لڑکوں اور دوسرے ساتھیوں کے ساتھ تیترخاں پر حملہ کردیا۔ اس جنگ میں تیتر خاں کو موت کے گھاٹ اُتاردیاگیااور نئی دولھن کو آزاد کرالیاگیا۔ اِس جنگ میں رانا حُرّا کے ۷۱لڑکے شہید ہوگئے۔ لڑکے کلسا،دیپ چند اور دوپال بچے اِن میں سے بعد میں کلسا سے کیرانہ علاقے کے گوجروں کی چوراسی کلسیان نام سے بسی جو آج بھی کلسیان کھاپ کے نام جانی جاتی ہے۔ دوسرے لڑکے دیپ چند نے دیوبند پر حکومت کی جبکہ تیسرے لڑکے دوبال نے رامپور منیہارن پر حکومت کی اور وہاں پر خوبڑوں کی چوراسی بسائی۔ بتاتے ہیں کہ آزاد کرائی گئی نئی دولھن رانا حُرّاکی بیوی بنی، اُس سے ۲لڑکے سلکھا اور سیگلا ہوئے ان دونوں لڑکوں میں سے سلکھا نے سِسولی پرراج کیااور بلِیان کھاپ بسائی اور سیگلا نے میرٹھ کے چوراسی کھاپ سیگلان بسائی۔ جانکاری کے مطابق آج ۵ چوراسی کھاپ ہیں۔ کیرانہ علاقے میں کلسیان نام سے، رامپور منیہارن میں خوبڑوں کی چوراسی، سِسولی علاقے میں بلِیان کھاپ اور میرٹھ میں سیگلان کھاپ کے نام سے مشہور ہے۔یہ شہر پنجیٹھ سے رانا حُرا کی ہی نسل ہے کل ملاکر شہر پنجیٹھ جوآج تک پچھڑے گاو¿ں کی شکل میں موجود ہے،نے اس علاقے میں ایک خاص تاریخ کی کڑی قدیم تاریخ میں جوڑی ہے جس کا یہاں ذکر کرنا ضروری تھااِس گاو¿ں میں موجودہ وقت میں سَینی سماج کے لوگوں کے ساتھ مسلم گوجر رہتے ہیں۔ کیرانہ پر مغل بادشاہوں کی نظرِ عنایت رہی ہے یہی وجہ ہے کہ اُنہو ںنے یہاں پر بہت خاص تعمیرات کرائی جن کے نشان آج بھی بُری حالت میں کھنڈر بنے مغل دَور کی گواہی دے رہے ہیں۔ کیرانہ کے پورب میں کاندھلہ، پچھم میں پانی پت، اُتر میں جھنجھانہ و شاملی اور دکھّن میں قدیم شہر پنجیٹھ اور تیترواڑہ ہیں۔ بعد میں بادشاہ جہانگیر دلی سے دوبار کیرانہ آئے اور اُنہو ںنے یہاں پر دربارِ عام کیا۔ لال پتھروں سے بنے یہاں پر کئی دروازے و عمارتیں آج بھی اُس دَور کی یاد دلارہی ہیں۔ بادشاہ جہانگیر اور اَورنگزیب نے جب پانی پت کی لڑائی لڑی تھی تب اُنہو ں نے کیرانہ کو ہی اپنی فوج کی چھاو¿نی بنائی تھی۔اُن کے کئی مقبرہ نما عمارتیں آج بھی اسلامیہ اسکول کے پاس جہاں پر موجودہ وقت میں پولیس چوکی امام گیٹ ہے،موجود ہے۔ اس علاقے کو آج بھی چھاو¿نی کے نام سے جانتے ہیں۔ اُستانی صاحبہ کے ذریعہ بنائی گئی مسجد جو قریب ۴۰۰سال پرانی ہے جویہاں پر محلہ دربار میں موجودہے۔پچھلے دنوں جب اس مسجد کی دکن کی جانب کی دیوار توڑ کر اُس میں دکان نکالی جارہی تھی تب اس مسجد کے نیچے ایک تہہ خانہ اور سُرنگ ملی تھی۔ جیسے ہی اس خبر کی چرچا شہر میں پھیلی سبھی دیکھنے کے لئے اُمڑ پڑے۔اس لئے اُس حصّہ میں دیوار کرکے بند کرادیاتھا۔اِس بارے میں کچھ لوگوں کاکہنا تھاکہ یہ سرنگ نما تہہ خانہ سے اُس وقت کی کوئی نایاب یا پرانی قیمتی چیز ملی تھی یہ معاملہ آج بھی تعجب خیز بناہواہے۔ اس بارے میں تاریخ داں حضرات کا یہ بھی کہناہے کہ یہ سرنگ و تہہ خانہ راجا کَرن کے ذریعہ ندی سے پانی لانے کے لئے یہاں بنایاگیاتھا۔ ۱۵۲۷ءمیں شاملی پرگنہ جس میں کیرانہ بھی شامل تھا بادشاہ جہانگیرنے اپنے خاص ساتھی نواب مقرب خاں کو تحفتاً دیاتھا۔ اس پرگنہ کی سرحد کرنال تک تھی،مقرب خاں نے کیرانہ کو اپنا لیااور تعمیرات کرائی۔اُنہوں نے پانی پت کھٹیمہ روڈ کے پاس ایک خوبصورت تالاب، نواب قلعہ، نواب دروازہ اور سرنگیں وغیرہ بنوائی تھیں جن کے نشان آج بھی موجود ہیں۔ تالاب کے پاس کئی پرانے کھنڈر نما عمارتیں، دروازے و سہ دریاں، مندر کی طرح کے کھنڈر اور بیگم پورہ محلہ میںایک بڑی پرانی سرائے، بیگم محل، بارہ دری اور سرائے والی مسجد جو بیگم مہرالنساءبیگم نے بنوائی تھی او رکئی بڑی دیواریں اب بھی کھنڈربنی قدیم تہذیب کی یاد دلارہی ہے۔ بیگم پورہ محلہ میں حکیم مقرب خاں کی بیگمات رہتی تھیں اور محلہ دربار و آس پاس اُن کا دربارِ عام لگتاتھا۔ یہاں پر نواب کے قلعوں میں چار کسوٹی کے کھنبے بھی تھے جو اَب پانی پت شہر میں مشہور حضرت مولا قلندرشاہ کے مزار میں لگے ہوئے ہیں۔ کیرانہ میں بادشاہ جہانگیرکے لئے نواب حکیم مقرب خاں نے ایک تختِ طاوس بھی بنوایاتھا جس کی قیمت اُس وقت لندن میں ۲۸کروڈ روپےے لگائی تھی جس کو اورنگ زیب کے وقت میں نادرشاہ لوٹ کر ایران لے گیاتھاجو آج بھی وہاں پر موجود ہے۔ جہانگیر بادشاہ نے کسی کام سے خوش ہوکر کیرانہ و علاقے میں اپنے قریبی نواب حکیم مقرب خاں کے ذریعے بہت سے کام کروائے۔ نواب مقرب خاں نے پانی پت روڈ کے پاس قریب ۵۵بیگہ زمین میں تالاب اور قلعہ بنوایا جس کی چوڑائی تقریباً ۰۵۲ گز ہے اِس تالاب کی ایک طرف کی دیوار نہیں ہے جبکہ تین جانب پکی دیوار ہیں جن میں سیڑھیاں بنی ہوئی ہیں، اس تالاب کے بیچ ایک خوبصورت و سفید پتھروں سے بنا قریب ۵۱فٹ اونچا اور ۰۶فٹ لما چوڑا چبوترہ ہے۔ بتایاجاتاہے کہ نواب صاحب اپنی بیگموں کے ساتھ کشتی کے ذریعہ تالاب کی سیر کیا کرتے تھے اور بیچ میں موجود چبوترے پر آرام فرمایا کرتے تھے۔ اِس تالاب کے پاس بنے قلعے کے نیچے تین سرنگیں ہیں۔ جن کاایک دروازہ جمناندی کی طرف اور دوسرا دلی کی طرف اور تیسرا پانی پت کی طرف کھلتاتھا۔ بتاتے ہیں کہ اِس راستے سے نواب صاحب نماز کے لئے جاتے تھے۔ دوسری سرنگ شہر میں ایک کنوئیں میں آکر کھلتی ہے جبکہ تیسری سرنگ دلی میں اِس لئے کھلتی تھی کیونکہ وہاں جہانگیر بادشاہ رہتاتھا۔ اسی کے پاس بوعلی شاہ قلندر شاہ بھی تھے۔ آج بھی وہاں پر ان کی خود کی اور اُن کے خاندان کی قبریں موجود ہیں۔ کیرانہ میں تاریخی نواب تالاب کی کہانی کے بارے میں بزرگ لوگ بتاتے ہیںکہ نواب مقرب خاں نے ایک نولکھا باغ بھی لگوایاتھا جس میں ۰۶۳ کنوئیں کھودے گئے تھے جن سے اس باغ کی سینچائی ہوتی تھی۔ اس نولکھا باغ میں ایک ایک پیڑ پھلدار لگوائے تھے جن میں آم،امرود،سیب، لیچی، قہوہ وغیرہ تھے۔ اس باغ میں قلعہ کے آس پاس ایک ہزار پستہ کے پیڑ تھے جبکہ ہندستان میں آج اور اُس وقت کہیں بھی پستہ پیدا نہیں ہوتاتھا۔ آج وہ پیڑ تو نہیں ہیں بلکہ تقریباً ۰۰۲کنوو¿ں کے نشان آج بھی بند حالت میں موجود ہیں۔ کہاجاتاہے کہ اس تالاب کو اُس وقت کے جنّات کے ذریعہ ایک ہی رات بنادیاگیاتھا۔ اِس میں لگے جنّات اُس وقت رات کو ایک طرف کی دیوار ادوھری چھوڑ بھاگ گئے تھے جب کسی عورت نے رات کو ہی صبح ہونے سے پہلے چکی چلادی تھی۔ دان ویر کَرن کے نام سے مشہور کیرانہ میں راجا کَرن، بادشاہ جہانگیر او رنواب حکیم مقرب خاں کی تاریخ سرکاری گزٹ میں بھی ملتی ہے۔کیرانہ کے پبلک اِنٹر کالج کے پرنسپل جناب آسارام شرما جنہوںنے یہاں کی تاریخ پر ریسرچ کی ہے کہ مطابق یہاں پر سرکار نے قدیم وقت کی بنی نشانیوں کے رکھ رکھاو¿ پر دھیان نہیں دیااور ہمیشہ کیرانہ کو نظرانداز کیاہے اور نہ ہی ان کی حفاظت کے بارے میں کوئی قدم اٹھایا۔ غدر میں شاملی تحصیل کو محبانِ وطن کے ذریعہ جلادیاگیاجس وجہ سے انگریزوں نے بعد میں کیرانہ میں تحیصل بنواکراسے مرکزی دفتر بنادیاتھا۔ کیرانہ قصبہ حکیموں کی نگری کے نام سے بھی مشہور رہاہے اِس کے علاوہ شاستریہ سنگیت کے نام پر اور فلمی دنیاوغیرہ میں بھی بہت مشہور رہا۔ کیرانہ کے وینا وادک، بانسری وادک، دھروپد گایت اور بہت شاستریہ گایک دیس کو دےے ہیں۔ یہاں ”کیرانہ گھرانہ“ جو اب ”کِرانہ گھرانہ“ کے نام سے جانا جاتاہے کی سنگیت سادھنا مغل دور سے ہوئی تھی۔ اُس وقت کیرانہ کے رہنے والے استاد شکور علی خاں کے ذریعہ یہ سنگیت کا فن شروع کیاگیا۔ کِرانہ گھرانہ آج ہندستان میں ہی نہیں بلک دیس پردیس میں بھی مشہور ہے۔ کچھ وقت پہلے کرانہ گھرانے کی مشہور گلوکار گنگوبائی ہنگل کا شاستریہ گاین، نوبھارت ٹائمس گروپ کے ذریعہ اِندراگاندھی کی یاد میں ہوئے پروگرام میں پیش کیاگیا۔ ۰۲ویں صدی سے پہلے کیرانہ گھرانہ کا سنگیت دیس پردیس میں مشہور رہا۔ بمبئی کی درجنوں فلمو ںمیں رَول کرنے والے حکیم کیرانوی جو پہلے کافی عرصے تک امیتابھ بچن کے ہیئر ڈریسر رہے، کیرانہ محلہ شیخ بدّھا کے تھے۔ حکیم کیرانوی خاندان کے شمیم احمد یہاں کیرانہ میں شاملی بس اسٹینڈ پر حکیم ہیئر ڈریسر کے نام سے دوکان آج بھی کرتے ہیں۔ اُتّم کمار سے حکیم کیرانوی کی شکل ملتی تھی اس وجہ سے اُتّم کما رکی موت ہونے پر حکیم کیرانوی نے اُن کی ادھوری فلمیں پوری کیں۔ حکیم کیرانوی کی بیوی آج بھی بمبئی میں فلمی ہیروئنوں کی ہیئر ڈریسر ہے۔ اس وقت(۷۰۰۲ئ) حکیم کیرانوی کے لڑکے عالم حکیم سلمان خان، اَجے دیوگن، کاجول، سیف علی خاں اور وِویک اوبرائے کا ہیر ڈریسر ہے۔ اِس کے علاوہ پیرجی مختار عرف منشی منقٰی کیرانہ کے محلہ امام باڑہ میں (چورگلی کے پاس) رہتے تھے، جنہوں نے تقریباً ۰۵ کامیاب فلموں میں گایا۔ اِن فلمو ںمیں میرے محبوب، پیار کا بندھن، محبوب کی مہندی وغیرہ خاص ہیں۔ محلہ دربار کے طبلہ بجانے والے وحید بلے میاں، بندے میاں، بین کا لہرا بجانے میںماہر تھے اور گلوکاروں میں عبدالکریم خاں جن کے فلمی ریکارڈ تہلکہ مچارہے ہیں، کیرانہ کے ہی رہنے والے تھے۔ یورپ، امریکہ، چین وغیرہ کا سفر کرنے والے عبدالکریم خاں کتّوں کے راگ گانے میں مشہور رہے ہیں اُن کے گیتوں کے ایچ۔ایم۔ وی کمپنی نے گراموفون ریکارڈ بنوائے اُن کی یاد میں بھارت سرکار نے آل انڈیا ریڈیو پر بھی ایک مجسمہ نصب کرارکھاہے اور ایچ۔ایم۔وی ریکارڈ کمپنی کے آڈیو کیسٹوں اور ریکارڈ پلیروں پر کتّا کو جو نشان ہے وہ بھی کیرانہ کا ہی کتّا تھاجسے بعدمیں عبدالکریم خاں بمبئی لے گئے تھے۔ بہرے وحید خاں، عبدالشکور، نواب سارنگی، بہرے امیر خاں وغیرہ بھی جو اسی قصبے کی دَین ہیں راگ راگنیوں میں مشہور رہے ہیں۔ سعودی عرب میں مذہبِ اسلام کی تعلیم و مکّہ میں حاجیوں کی خدمت کے لئے چلائے جارہے مدرسے کے قائم کرنے والے حضرت مولانا رحمت اللہ کیرانوی نے پادریوں سے مقابلہ کیااور انگریزی فوج کے خلاف بھی لڑے۔ کیرانہ کے محلہ دربارکے رہنے والے تھے،انگریزی دَور میں دیس چھوڑکر چلے گئے تھے۔ واضح رہے کہ مدرسہ صولتیہ اب ایک اسلامک یونیورسٹی جیسا بن چکاہے جہاںکیرانہ سے جانے والے حاجیوں کو خاص عزت ملتی ہے۔ مراٹھادَور میں کیرانہ میں قریب ساڑھے تین سو برس پہلے بنا دَیوی مندر دیس میں اپنی طرح کا پہلا مندر ہے جس کی بنیاد سیوامِری مراٹھا نے رکھی تھی۔ اس مندر کی سات منزلیں ہیں اور اندر سے پہلی منزل سے ساتویں منزل میںپوراکیرانہ ہی نہیںبلکہ ۶کلومیٹر دور بہہ رہی جمنا اور اِتنی ہی دوری تک چاروں طرف کے گاو¿ں دیکھے جاسکتے ہیں۔ ان پیڑیوں میں ماتا دُرگاکے خوبصورت مجسمہ کے اوپر چکردار زینے سے آتے جاتے وقت پیر نہیں آسکتے۔ اِس مندر کی تعمیر پوری کرانے میں پنڈت نیادرمل جو کہ مندر کے پُجاری آنجہانی رَنبیرشرن کے داداکا نمایاں کردارتھا۔ فی الحال نیادر گری کی نسل سے راجکمار پجاری ہے۔ اس دَیوی مندر کے سامنے ۲۱بیگہ زمین میں پکّا تالاب ہے جس کے آس پاس سنتوشی ماتا کا مندر اور خودبخود زمین سے نکلا شِیولِنگ اور وَن کھنڈی مہادیو مندر، جین مندر و جین باغ ہیں۔ اس کے علاوہ قصبہ میں قریب ۰۰۵ سال پرانی جامع مسجد کے ساتھ اس وقت کل ۲۹چھوٹی بڑی مساجد ہیں جن میں روزانہ ہزاروں مسلمان خداکی عبادت کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ قصبہ میں اور بھی کئی مذہبی مقامات پرانے عہد کی یاد دلارہے ہیں۔ یہاں پر محلہ چھڑیان میں خواجہ معین الدین چشتی اجمیری کی یاد میں سیکڑوں برسوں سے ہرسال ایک ہفتہ سے دو ہفتے تک میلہ لگتاہے جس میں ہندو، مسلم بڑھ چڑھ کر شامل ہوتے ہیں۔بتاتے ہیں کہ چشتی صاحب سفر کرتے ہوئے یہاں آئے تھے اور چھڑیان چوک پر رات کو آرام کیاتھا،یہاں پر اپنی چھڑی گاڑی تبھی سے یہاں کا میدان، چھڑیان میدان کے نام مشہور ہے۔ کیرانہ کی مرچ دنیابھر میں مشہو رہے۔ یہاں کی مرچ کا یو پی،ہریانہ، مغربی بنگال، آندھر پردیش، تمل ناڈو اور بمبئی تک کاروبار ہوتاہے۔ یہاں پر گنّا،گیہوں، چاول، آلو، گوبھی، بَیر وغیرہ بھی بھرپور پیدا ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ غیر ممالک بھیجی جانے والی سلہری بھارت کے لاڈل، ہریانہ، امرتسر پنجاب اور کیرانہ مظفرنگر کی چھاپ ملک میں مشہور ہے۔یہاں پر ہزاروں کاریگر روزانہ ہزاروں میٹر دیسی سوت کے ذریعہ کپڑے وغیرہ بڑی تعداد میں تیار ہوتے ہیں اور ہاتھ کی چھپائی کابھی یہاں پر کمال ہے، ہاتھ کی چھپائی کے لحاف، چادر وغیرہ دور دور تک بھیجے جاتے ہیں۔ کیرانہ جسے کئی بارجمنا ندی کی باڑھ نے نقصان پہنچایا اور مہابھارت میں مرکز رہاہے، آج سرکارکے ذریعہ نظرانداز کیا جارہاہے۔ جبکہ اس علاقے کے گرام بیلڑا کے چودھری ناراین سنگھ یوپی کے نائب وزیراعلیٰ بھی رہ چکے ہیں اورسابق وزیراعظم چودھری چرن سنگھ کی اہلیہ محترمہ گایتری دیوی بھی کیرانہ سے ایم۔پی چن کر لوک سبھا میں پہنچ چکی ہیں۔ کیرانہ اخباری جگت میں بھی آگے رہاہے یہا ںسے ۶۳۹۱ئ میں ”ضرورت“ نام کا ہفتہ واری اخبار دیوی چند بسمل کے ذریعہ شائع کیاگیاتھا جب مظفرنگر سے کوئی اخبار نہیں نکلتاتھا بلکہ میرٹھ سے صرف ایک اخبار ”کرانتی“ نکلتاتھا۔ بسمل صاحب مرحوم نے ”ضرورت“ اخبار کو اردو زبان میں شروع کیا۔ ۰۶۹۱ سے ۰۸۹۱ تک چھپنے کے بعد بسمل صاحب کے انتقال کی وجہ سے بند ہوگیا۔ سابق وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہروبھی بسمل سے ملنے کیرانہ آیاکرتے تھے۔ موجودہ دَور میں کہنے کو تو یہاں سے ایک درجن اخبارشائع ہوتے ہیں لیکن سرکار کے نظرانداز کرنے اور مالی حالت ٹھیک نہ ہونے کی وجہ سے وقت پر نہیں چھپ رہے ہیں اور کئی بند ہونے کوہیں۔ کیرانہ اور آس پاس کے دیہات کے جوجھارو اور کھوجی نامہ نگاروں نے یہاں پر وقت وقت پر بہت سی باتوں سے پردہ اٹھانے کے ساتھ ہی گاو¿ں اور قصبہ کی دقّتوں کو اُٹھاکر سرکارکے سامنے رکھاہے اور ان کے حل کرانے میں بھرپور ہاتھ رہاہے۔ کل ملاکر کیرانہ بھارت میں جہاں ایک اور اپنا ایک خاص مقام رکھتاہے وہیں دوسری طرف فی الحال بہت سی پریشانیوں سے جوجھ رہاہے۔جس وجہ سے یہاں کا عام آدمی روزگار کی تلاش میں آس پاس کے قصبوں میں اپنی روزی روٹی تلاش کرنے کے لئے مجبورہے۔ مزید جانکاری کے لئے دیکھیں ویب سائٹ www.kairana.net ۔

0 comments:

Post a Comment

My Facebook